اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے طویل مدتی قرضوں کے لیے نقدی معاونت بڑھانے کے اعلان کے بعد یورو زون کے بانڈز کی شرحِ منافع میں کمی آئی، تاہم اس سے سرمایہ کاروں کا خطرناک اثاثوں کی جانب رجحان نمایاں طور پر بحال نہ ہو سکا۔
رپورٹ کے مطابق عالمی بانڈز کی شرحِ منافع منگل کو کئی برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، جس کے بعد خطرناک اثاثوں کی مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھی گئی۔
رائٹرز کے مطابق جرمنی کے 30 سالہ سرکاری بانڈز کی شرحِ منافع میں کم از کم ایک بنیادی پوائنٹ کمی ہوئی، جبکہ 10 سالہ بانڈز کی شرحِ منافع میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔
دوسری جانب توانائی پر زیادہ انحصار رکھنے والی یورپی معیشت کو مہنگائی کے دباؤ کا سامنا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے خطے کی اقتصادی ترقی کے امکانات پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سٹی انڈیکس کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار فیونا سنکوتا نے کہا کہ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث مہنگائی کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔ امریکا کے بڑھتے ہوئے قرضوں کے حوالے سے مالیاتی خدشات بھی سرمایہ کاروں کو پریشان کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بنیادی خام مال سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں 3.3 فیصد جبکہ صحت کے شعبے کے حصص میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا، جس سے مجموعی مارکیٹ میں کمی کی شدت کسی حد تک کم ہوئی۔
کاروباری کمپنیوں میں ڈنمارک کی صنعتی کمپنی ایف ایل اسمتھ اینڈ کمپنی کے حصص میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا۔ کمپنی نے دوسری سہ ماہی کی آمدنی تجزیہ کاروں کی توقعات سے زیادہ رہنے کی اطلاع دی۔
اس کے برعکس معدنی اون تیار کرنے والی ڈنمارک کی کمپنی راک وول کے حصص میں 5 فیصد کمی ہوئی۔ کمپنی نے 2026 کی آمدنی کی پیش گوئی میں اضافہ کیا تھا، تاہم نظرثانی شدہ تخمینہ بھی سرمایہ کاروں کی توقعات سے کم رہا۔
آپ کا تبصرہ